مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک– نفیسہ عبداللہی: آرمینیا کے وزیر خارجہ آرارات میرزویان کا تہران کا دورہ اور سید عباس عراقچی اور محمدباقر قالیباف سے ان کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی قفقاز سیاسی، سلامتی اور ٹرانزٹ تعلقات کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں خطے کے ممالک کے علاوہ خطے سے باہر کی طاقتیں بھی قفقاز کے نئے نظم کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عراقچی اور میرزویان کی ملاقات میں سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ دوطرفہ تعلقات کی توسیع، علاقائی رابطوں اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے خدشات کو ایک ہی جامع فریم ورک میں دیکھا گیا۔ عراقچی نے ہمسایہ ممالک، بالخصوص قفقاز کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ایران کے مؤقف پر زور دیا اور کہا کہ ان تعلقات کی ترقی خطے میں سلامتی، امن اور اقتصادی خوشحالی کو مضبوط بنانے کا باعث بنے گی۔
اسی تناظر میں تہران اور ایروان نے اقتصادی، تجارتی، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم پر زور دیا گیا۔ میرزویان نے بھی امید ظاہر کی کہ ایران اور آرمینیا کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید گہرے مرحلے میں داخل ہوں گے۔
تاہم مذاکرات کا زیادہ اہم حصہ قفقاز کی صورتحال سے متعلق تھا۔ عراقچی نے آرمینیا اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان مثبت تعامل کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی مذاکرات، بشمول ۳+۳ کے فریم ورک میں، ایران کی شرکت کے لیے آمادگی پر زور دیا۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران قفقاز کے مسائل کے حل کو علاقائی فریم ورک میں آگے بڑھانا چاہتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ مستقبل کے انتظامات طے کرنے میں خطے کے ممالک کا بنیادی کردار ہونا چاہیے۔

یہاں ایران کی جانب سے ’’تیسرے فریقوں کی موجودگی اور مداخلت‘‘ کے حوالے سے انتباہ اہمیت اختیار کرتا ہے۔ تہران ایک طرف قفقاز میں رابطوں کے راستوں کی ترقی اور اقتصادی تعاون کی حمایت کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف ان انتظامات کے حوالے سے خبردار کرتا ہے جو ایران کی سرحدوں کے قریب خطے سے باہر کی طاقتوں کی موجودگی اور اثر و رسوخ کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔
اس مؤقف کو قالیباف کے بیان کے ساتھ بھی دیکھا جانا چاہیے، جنہوں نے میرزویان سے ملاقات میں کہا کہ قفقاز کو بیرونی طاقتوں کے جغرافیائی سیاسی مقابلے کا میدان نہیں بننا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں آرمینیا کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ایروان اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دے گا اور خطے کی سرحدوں کو تبدیل نہ کرنے کے اصول کو آرمینیا کے لیے اہم قرار دیا۔

اس نقطۂ نظر سے میرزویان کے دورے کے پیغام کو ایک اہم دو رخی صورتحال کو منظم کرنے کی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے؛ آرمینیا نئے اقتصادی اور ٹرانزٹ مواقع سے فائدہ اٹھانے اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے اور تہران کو اپنے سلامتی سے متعلق تحفظات کے حوالے سے یقین دہانی کرانے کو بھی اہمیت دیتا ہے۔
ٹی آر آئی پی پی (TRIPP) کا معاملہ بھی اسی تناظر میں قابل غور ہے۔ یہ جمہوریہ آذربائیجان اور نخجوان کے درمیان جنوبی آرمینیا کے راستے رابطے کی راہ تیار کرنے کا منصوبہ ہے، جسے امریکہ کے کردار کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ایران کے لیے مسئلہ صرف نئے ٹرانزٹ راستوں کا قیام نہیں، بلکہ اصل اہمیت ان راستوں کے انتظام اور ایران کی سرحدوں کے قریب خطے سے باہر کے فریقوں کی ممکنہ موجودگی کے اثرات کی ہے۔
دوسری جانب تہران کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران قفقاز کی نئی پیش رفت کو صرف سلامتی کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہتا۔ آرمینیا کے ساتھ اقتصادی، توانائی اور ٹرانسپورٹ تعاون پر زور اور ۳+۳ میکانزم کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران اپنی جغرافیائی سیاسی صلاحیتوں کو اقتصادی اور سفارتی ذرائع میں تبدیل کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب قفقاز کی صورتحال کو مغربی ایشیا کی پیش رفت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ عراقچی نے میرزویان سے ملاقات میں علاقائی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے حالیہ جنگ اور کشیدگی کے اثرات اور بحران میں اضافے کو روکنے کے لیے سفارت کاری سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ لہٰذا تہران کے نقطۂ نظر سے قفقاز کی سلامتی، خلیج فارس اور مغربی ایشیا کی سلامتی بھی ایک وسیع تر پالیسی کے فریم ورک میں قابل فہم ہے، جس کا مقصد بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو کم کرنا اور اپنے مسائل کے حل میں علاقائی ممالک کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔
مجموعی طور پر میرزویان کے دورۂ تہران کو محض دوطرفہ مشاورت سے بڑھ کر قفقاز میں تشکیل پانے والے نئے نظم کے تناظر میں ایران اور آرمینیا کی جانب سے اپنے تعلقات کو منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ تہران اس عمل میں بیک وقت تین اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے: اولاً ایروان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو گہرا کرنا، ثانیاً خطے کے رابطہ راستوں اور ٹرانزٹ میں ایران کے کردار کو برقرار رکھنا، اور ثالثاً قفقاز کو خطے سے باہر کی طاقتوں کے سلامتی سے متعلق مقابلے کا میدان بننے سے روکنا۔
دوسری جانب آرمینیا بھی نئے علاقائی رابطوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ایران کے سلامتی سے متعلق خدشات کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس راستے میں دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ نقطۂ نظر ممالک کی خودمختاری، سرحدوں کو تبدیل نہ کرنے اور خطے کے مسائل کو خود خطے کے ممالک کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور ہے۔
اس تناظر میں شاید میرزویان کے حالیہ دورے کا سب سے اہم نتیجہ کسی مخصوص معاہدے کے بجائے قفقاز کے نئے نظم کے قواعد کے حوالے سے تہران اور ایروان کے درمیان بات چیت کا جاری رہنا ہے؛ ایسا نظم جس میں ٹرانزٹ راستے اب محض اقتصادی منصوبے نہیں رہے بلکہ ایران کے گردونواح میں طاقت اور سلامتی کی مساوات کا حصہ بن چکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ